دوستوں اس تحریر میں جانوروں کی جماعت کے سب
سے موثر ترین شکاری جانوروں کا ذکر ہے جو انسان کے لیے بھی مہلک ترین ثابت ہوئے ہیں ۔ اگر آپ نے ابھی تک ہمارے یوٹیوب چینل Urdubaat کو سبسکرائب نہیں کیا تو اسے سبسکرائب کیجئے اور ساتھ لگے بیل آئ کن کو بھی دبائیں تاکہ ہماری ویڈیوز آپ تک پہنچتی رہیں ۔
No 07– Piranha پرانہا مچھلی
یہ مچھلی ایمزون جنگل میں پائی جاتی ہے ۔اس مچھلی کے دانت تکونی شیپ کے ہوتے ہیں ۔ اور اتنے تیز دھار ہوتے ہیں کہ کسی بھی جانور کا چمڑا ادھیڑ سکتے ہیں ۔ پرانہا مچھلیاں جانوروں اور پرندوں پر یکدم 100 سے 150 کی تعداد میں حملہ کرتی ہیں ۔کچھ منٹوں کے اندر یہ جانور کا سارا گؤشت نوچ کر کھا جاتی ہیں ۔پرانہا کی بائٹ بہت مضبوط ہوتی ہے ۔ جب یہ کسی انسان یا جانور پر چک مارتی ہے تو اس شدت سے اسے زخمی کرتی ہے کہ کوئی اسے چھڑا نہیں سکتا ۔ پرانہا مچھلی ایمزون میں بہت سے انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنی ہیں ۔
سے موثر ترین شکاری جانوروں کا ذکر ہے جو انسان کے لیے بھی مہلک ترین ثابت ہوئے ہیں ۔ اگر آپ نے ابھی تک ہمارے یوٹیوب چینل Urdubaat کو سبسکرائب نہیں کیا تو اسے سبسکرائب کیجئے اور ساتھ لگے بیل آئ کن کو بھی دبائیں تاکہ ہماری ویڈیوز آپ تک پہنچتی رہیں ۔
No 07– Piranha پرانہا مچھلی
یہ مچھلی ایمزون جنگل میں پائی جاتی ہے ۔اس مچھلی کے دانت تکونی شیپ کے ہوتے ہیں ۔ اور اتنے تیز دھار ہوتے ہیں کہ کسی بھی جانور کا چمڑا ادھیڑ سکتے ہیں ۔ پرانہا مچھلیاں جانوروں اور پرندوں پر یکدم 100 سے 150 کی تعداد میں حملہ کرتی ہیں ۔کچھ منٹوں کے اندر یہ جانور کا سارا گؤشت نوچ کر کھا جاتی ہیں ۔پرانہا کی بائٹ بہت مضبوط ہوتی ہے ۔ جب یہ کسی انسان یا جانور پر چک مارتی ہے تو اس شدت سے اسے زخمی کرتی ہے کہ کوئی اسے چھڑا نہیں سکتا ۔ پرانہا مچھلی ایمزون میں بہت سے انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنی ہیں ۔
No 06– Gray Wolf سرمئی بھیڑیا
بھیڑیوں کی سب سے مشہور قسم ’’گرے وولف‘‘ کہلاتی ہے یہ انتہائی موثر شکاری ہیں ۔ جنگوں میں گروہ کی صورت میں رہتے ہیں اور دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی ظالم درندے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ سردیوں کے طویل موسم میں جب انہیں کھانے کے لیے شکار نہیں ملتا تو یہ ایک دائرہ بناکر بیٹھ جاتے ہیں اور چوکنے ہوکر ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہتے ہیں، جیسے ہی کسی کمزور بھیڑیے کی آنکھ جھپکتی ہے تو باقی بھیڑیے اس پر پِل پڑتے ہیں اور اس کی تکہ بوٹی کرکے ہڑپ کرجاتے ہیں۔ یہ بھیڑیے انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔ گرے وولف ایک سال میں دس افراد کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔
بھیڑیوں کی سب سے مشہور قسم ’’گرے وولف‘‘ کہلاتی ہے یہ انتہائی موثر شکاری ہیں ۔ جنگوں میں گروہ کی صورت میں رہتے ہیں اور دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی ظالم درندے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ سردیوں کے طویل موسم میں جب انہیں کھانے کے لیے شکار نہیں ملتا تو یہ ایک دائرہ بناکر بیٹھ جاتے ہیں اور چوکنے ہوکر ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہتے ہیں، جیسے ہی کسی کمزور بھیڑیے کی آنکھ جھپکتی ہے تو باقی بھیڑیے اس پر پِل پڑتے ہیں اور اس کی تکہ بوٹی کرکے ہڑپ کرجاتے ہیں۔ یہ بھیڑیے انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔ گرے وولف ایک سال میں دس افراد کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔
No 05 – Tarantula spider ٹورانٹولا مکڑی
یہ دنیا کی واحد مکڑی ہے جو جالا نہیں بن سکتی یہ مکڑی اپنے نوکیلے بالوں سے شکار کو پکڑتی ہے۔ قدرت نے اس مکڑی کو انتہائی نوکیلے بال دیئے ہیں جس سے وہ مچھلی وغیرہ کو چبھاکر ان کو اپنا خوراک بناتی ہیں ۔ یہ مکڑی چھوٹے ممالیوں مثلاً چوہوں وغیرہ کو بھی بے حس یا شدید زخمی کرکے اپنا شکار کر سکتی ہے۔ یہ انسان کے لیے مہلک تو نہیں لیکن اس کا ڈنک زہریلا اور انتہائی تکلیف دہ ہے ۔
یہ دنیا کی واحد مکڑی ہے جو جالا نہیں بن سکتی یہ مکڑی اپنے نوکیلے بالوں سے شکار کو پکڑتی ہے۔ قدرت نے اس مکڑی کو انتہائی نوکیلے بال دیئے ہیں جس سے وہ مچھلی وغیرہ کو چبھاکر ان کو اپنا خوراک بناتی ہیں ۔ یہ مکڑی چھوٹے ممالیوں مثلاً چوہوں وغیرہ کو بھی بے حس یا شدید زخمی کرکے اپنا شکار کر سکتی ہے۔ یہ انسان کے لیے مہلک تو نہیں لیکن اس کا ڈنک زہریلا اور انتہائی تکلیف دہ ہے ۔
No 04 – Black Mamba بلیک ممبا سانپ
بلیک ممبا انتہائی موثر شکاری ہیں ۔ بلیک ممبا (Black Mamba) دنیا کے زہریلے ترین سانپوں میں سے ایک ہے۔ دیکھنے میں یہ سانپ کنگ کوبرا سے کم خطرناک لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اس سے بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔یہ اپنے شکار پر حملہ آور ہونے کے بعد اپنے زہریلے ڈنگ سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
بلیک ممبا انتہائی موثر شکاری ہیں ۔ بلیک ممبا (Black Mamba) دنیا کے زہریلے ترین سانپوں میں سے ایک ہے۔ دیکھنے میں یہ سانپ کنگ کوبرا سے کم خطرناک لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اس سے بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔یہ اپنے شکار پر حملہ آور ہونے کے بعد اپنے زہریلے ڈنگ سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
No 03 – Great White Shark
گہرے سمندروں میں رہنے والی شارک اپنے جان لیوا اور خونی حملوں کی وجہ سے مشہور ہے اور شارک کا نام سنتے ہی ذہن میں بڑے بڑے جبڑے اور خون ابھر آتا ہے ۔
گریٹ وائٹ شارک کی خونخواری ضرب المثل ہے۔ یہ اپنے نوکیلے دانتوں اور خوفناک جبڑے کے ذریعے کسی جانور کو پکڑ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے ۔ شارک دنیا کے تمام ہی سمندروں میں پائی جاتی ہے ۔ یہ خطرناک مچھلی سالانہ پانچ انسانی زندگیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔
No 02 – Crocodile مگر مچھ
مگرمچھ اپنی آنکھیں، کان اور نتھنے سر کے سب سے اونچے حصے پر ہونے کے باعث اپنے سارے جسم کو پانی کے اندر چھپا کر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس خوبی کی وجہ سے اس کا شکار آخری وقت تک اس کی موجودگی سے بے خبررہتا ہے۔ اس کی نظر، قوت سماعت اور قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ پانی سے باہر بھی کافی تیزی سے حرکت کرسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مگر مچھ اپنی پچھتر سالہ زندگی میں اسی (80) بار پرانے دانت تبدیل کر کے نئے دانت پھر دوبارہ نکال سکتا ہے۔ مختلف زبانوں میں ’’مگر مچھ کے آنسو‘‘ کا محاورہ بھی مستعمل ہے۔ دیو مالائی کہانیوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔
مگر مچھ ایک سال میں ایک ہزار انسانوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔
No 01 – Komodo Dragon
کوموڈو ڈریگن چھپکلی کی ایک بڑی نسل کا جانور ہے ۔
اس کے منہ میں 50 اقسام کے بیکٹیریا دریافت کیے جاچکے ہیں جو کسی بھی جانور کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہیں کوموڈو ڈریگن اپنے شکار کو کاٹ کر اپنے منہ میں موجود بیکٹیریا ان کے جسم میں داخل کرتے ہیں ۔کچھ ہی دیر میں ان کا شکار ڈھیر ہو جاتا ہے اور یہ اسے کھا لیتے ہیں ۔
تحریر اگر اچھی لگے تو لائک اور شیئر کریں کمنٹ کی صورت میں اپنی راۓ ضرور دیں ۔
ایک نئی تحریر میں ملنے تک کےلئے اللہ حافظ !
گہرے سمندروں میں رہنے والی شارک اپنے جان لیوا اور خونی حملوں کی وجہ سے مشہور ہے اور شارک کا نام سنتے ہی ذہن میں بڑے بڑے جبڑے اور خون ابھر آتا ہے ۔
گریٹ وائٹ شارک کی خونخواری ضرب المثل ہے۔ یہ اپنے نوکیلے دانتوں اور خوفناک جبڑے کے ذریعے کسی جانور کو پکڑ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے ۔ شارک دنیا کے تمام ہی سمندروں میں پائی جاتی ہے ۔ یہ خطرناک مچھلی سالانہ پانچ انسانی زندگیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔
No 02 – Crocodile مگر مچھ
مگرمچھ اپنی آنکھیں، کان اور نتھنے سر کے سب سے اونچے حصے پر ہونے کے باعث اپنے سارے جسم کو پانی کے اندر چھپا کر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس خوبی کی وجہ سے اس کا شکار آخری وقت تک اس کی موجودگی سے بے خبررہتا ہے۔ اس کی نظر، قوت سماعت اور قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ پانی سے باہر بھی کافی تیزی سے حرکت کرسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مگر مچھ اپنی پچھتر سالہ زندگی میں اسی (80) بار پرانے دانت تبدیل کر کے نئے دانت پھر دوبارہ نکال سکتا ہے۔ مختلف زبانوں میں ’’مگر مچھ کے آنسو‘‘ کا محاورہ بھی مستعمل ہے۔ دیو مالائی کہانیوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔
مگر مچھ ایک سال میں ایک ہزار انسانوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔
No 01 – Komodo Dragon
کوموڈو ڈریگن چھپکلی کی ایک بڑی نسل کا جانور ہے ۔
اس کے منہ میں 50 اقسام کے بیکٹیریا دریافت کیے جاچکے ہیں جو کسی بھی جانور کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہیں کوموڈو ڈریگن اپنے شکار کو کاٹ کر اپنے منہ میں موجود بیکٹیریا ان کے جسم میں داخل کرتے ہیں ۔کچھ ہی دیر میں ان کا شکار ڈھیر ہو جاتا ہے اور یہ اسے کھا لیتے ہیں ۔
تحریر اگر اچھی لگے تو لائک اور شیئر کریں کمنٹ کی صورت میں اپنی راۓ ضرور دیں ۔
ایک نئی تحریر میں ملنے تک کےلئے اللہ حافظ !








No comments:
Post a Comment